- حیدر علی
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتخابی سیاست — ایک تقابلی جائزہ
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں ایک ہی جغرافیائی اور تاریخی تنازعے کے حصّے ہیں، لیکن ان کی انتخابی سیاست ایک جیسی نہیں۔
کاغذ پر دونوں جگہ انتخابات ہوتے ہیں، حکومتیں بنتی ہیں اور اسمبلیاں قائم ہوتی ہیں، مگر اندر جھانکنے پر اصل فرق اختیار، دائرۂ کار اور عوامی احساس میں سامنے آتا ہے۔
یہ فرق آج پورے خطے کی سیاست کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر — انتخابات مگر مشروط سیاست
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں انتخابات نسبتاً باقاعدگی سے ہوتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں سرگرم ہوتی ہیں، حکومت بنتی ہے اور اپوزیشن بھی موجود رہتی ہے۔
لیکن اس انتخابی عمل کی ایک بڑی حد ہے۔
کچھ سیاسی مؤقف قابلِ قبول نہیں
کشمیر کے مستقبل پر ایک مخصوص دائرہ مقرر ہے
قوم پرست جماعتوں کے لیے میدان برابر نہیں
انتخابات ضرور ہوتے ہیں، مگر انتخابی سیاست ایک طے شدہ فریم ورک سے باہر نہیں جا سکتی۔
اسی لیے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ووٹ دینے سے حکومت تو بدل جاتی ہے، مگر اختیار نہیں بدلتا۔
گلگت بلتستان — الیکشن مگر آئینی خلا
گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست ایک مختلف سوال کھڑا کرتی ہے۔
یہاں بھی انتخابات ہوتے ہیں، وزیراعلیٰ بنتا ہے اور اسمبلی وجود رکھتی ہے۔
لیکن سب سے بنیادی مسئلہ آئینی شناخت کا ہے۔
گلگت بلتستان آج تک مکمل آئینی حیثیت حاصل نہیں کر سکا۔
یہ صوبہ نہیں
آزاد خطہ بھی نہیں
کشمیر کا حصہ مانا جاتا ہے
مگر کشمیری آئینی حقوق بھی حاصل نہیں
یوں انتخابی سیاست ایک ایسے ڈھانچے میں چلتی ہے جس کی بنیاد خود غیر واضح ہے۔
اس صورتحال میں منتخب نمائندے بھی محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
اختیار کا فرق — اصل فرق یہی ہے
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں کم از کم ایک عارضی آئینی ڈھانچہ موجود ہے، جو انتخابی سیاست کو ایک شکل دیتا ہے۔
گلگت بلتستان میں یہی ڈھانچہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
نتیجتاً:
کشمیر میں الیکشن محدود خودمختاری کا تاثر دیتے ہیں
گلگت بلتستان میں الیکشن انتظامی نمائندگی سے آگے نہیں بڑھ پاتے
دونوں جگہ عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں اور عوامی رویہ
دونوں خطوں میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی مختلف ہے۔
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں مقامی جماعتیں نسبتاً پرانی اور منظم ہیں، اگرچہ ریاستی دباؤ موجود رہتا ہے۔
گلگت بلتستان میں زیادہ تر سیاست قومی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے، جو مقامی مسائل کو اکثر ثانوی حیثیت دیتی ہیں۔
اسی وجہ سے یہ تاثر عام ہے کہ وہاں انتخابات صرف حکومت بنانے کا ذریعہ ہیں، اختیار حاصل کرنے کا نہیں۔
ایک مشترک احساس — نمائندگی مگر بے بسی
تمام تر فرق کے باوجود ایک بات دونوں جگہ مشترک ہے۔
ووٹ دیا جاتا ہے
حکومت بنتی ہے
مگر پالیسی سازی میں عوامی اثر محدود رہتا ہے
یہ احساس نوجوانوں میں سیاست سے دوری پیدا کرتا ہے، اور نظام پر عدم اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
اختتام — انتخابات کافی نہیں ہوتے
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں میں انتخابی سیاست ایک اہم عمل ضرور ہے، لیکن یہ مکمل حل نہیں۔
جب تک:
اختیارات واضح نہیں ہوتے
نمائندگی حقیقی نہیں بنتی
مقامی فیصلے مقامی ہاتھوں میں نہیں آتے
انتخابات محض ایک رسم بن کر رہیں گے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
اور یہ حق ابھی دونوں خطوں کے عوام پوری طرح محسوس نہیں کر پاتے۔