جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی — عوامی ردِعمل کی ایک شکل

کشمیر کی سیاست صرف جماعتوں، انتخابات یا اقتدار کے گرد نہیں گھومتی۔ یہ اکثر ایسے لمحوں میں سامنے آتی ہے جب عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آواز کہیں سنی نہیں جا رہی۔ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی اسی احساس کی پیداوار ہے۔

یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو مخصوص حالات میں عوامی غصے، مطالبات اور سوالات کو یکجا کرتا ہے۔ ایک کشمیری کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تنظیم دراصل نظام کے اندر موجود خلا کی علامت بن جاتی ہے۔


پس منظر — جب عوام کو خود آگے آنا پڑا

کشمیر کے مختلف حصّوں میں، چاہے وہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر ہو یا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر، بارہا ایسے مواقع آئے جب لوگوں نے محسوس کیا کہ:

  • منتخب نمائندے خاموش ہیں

  • سیاسی جماعتیں مفادات میں الجھی ہوئی ہیں

  • اور روزمرہ مسائل مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں

اسی خلا میں عوامی ایکشن کمیٹیاں وجود میں آتی ہیں۔ یہ کسی نظریاتی انقلاب سے زیادہ ایک فوری عوامی ردِعمل ہوتی ہیں — بجلی، پانی، حقوق، شناخت یا کسی سیاسی فیصلے کے خلاف۔


ساخت — سیاست نہیں، شرکت

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی عمومی طور پر درج ذیل طبقات پر مشتمل ہوتی ہے:

  • تاجر

  • وکلاء

  • طلبہ

  • مذہبی و سماجی شخصیات

  • شہری نمائندے

یہاں کوئی مستقل صدر، طویل منشور یا انتخابی مہم نہیں ہوتی۔ فیصلے اجتماعی ہوتے ہیں اور مطالبات واضح اور محدود رکھے جاتے ہیں، مثلاً:

  • کسی فیصلے پر نظرثانی

  • بنیادی سہولیات کی بہتری

  • عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا

اسی لیے یہ کمیٹیاں کبھی بہت مضبوط دکھائی دیتی ہیں اور کبھی حالات بدلتے ہی اچانک غائب ہو جاتی ہیں۔


دونوں اطراف کا تجربہ — شکل مختلف، جڑ ایک

بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کو اکثر سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ احتجاج کو فوراً خطرہ سمجھ لیا جاتا ہے اور اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں صورتحال نسبتاً مختلف ہے، مگر یہاں بھی عوامی احتجاج کی اپنی حدیں ہیں۔

  • کچھ مطالبات برداشت کر لیے جاتے ہیں

  • کچھ کو سیاسی یا حساس قرار دے کر دبا دیا جاتا ہے

دونوں صورتوں میں اصل مسئلہ احتجاج نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عوام کو مستقل اور مؤثر سننے کا کوئی مضبوط نظام موجود نہیں۔


کامیابیاں اور محدودات

یہ حقیقت ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹیوں نے بعض مواقع پر دباؤ کے ذریعے نتائج حاصل کیے:

  • پالیسی میں عارضی تبدیلی

  • مذاکرات کا آغاز

  • حکومتی وعدے

لیکن یہ کامیابیاں اکثر وقتی ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ:

  • کوئی مستقل تنظیمی ڈھانچہ نہیں

  • کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں

  • اور کوئی طویل المدت سیاسی حکمتِ عملی موجود نہیں

یوں یہ کمیٹیاں مسئلہ حل کرنے سے زیادہ مسئلہ نمایاں کرنے تک محدود رہتی ہیں۔


ایک کشمیری کی نظر سے اصل سوال

ایک عام کشمیری لازماً یہ سوال اٹھاتا ہے:

اگر عوامی ایکشن کمیٹی کی ضرورت بار بار پیش آتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی نظام ناکام ہو رہا ہے؟

جب لوگ بار بار سڑک پر آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ انتشار چاہتے ہیں، بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ سنے جانا چاہتے ہیں۔ یہ سوال بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں۔


اختتام — ایک عارضی آواز، مستقل مسئلہ

جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کسی ایک نظریے، جماعت یا ریاست کی نمائندہ نہیں۔ یہ دراصل اس خاموش چیخ کا نام ہے جو اُس وقت نکلتی ہے جب تمام رسمی سیاسی راستے بند محسوس ہوں۔

یہ کمیٹیاں نظام کا متبادل نہیں ہوتیں، بلکہ ایک آئینہ ہوتی ہیں — ایسا آئینہ جو یہ دکھاتا ہے کہ عوام اور فیصلوں کے بیچ فاصلہ کتنا بڑھ چکا ہے۔

جب تک پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں جگہ عوامی شمولیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، ایسی کمیٹیاں بنتی رہیں گی۔

کیونکہ جہاں آواز نہیں سنی جاتی، وہاں لوگ خود بولنا سیکھ جاتے ہیں۔
اور یہی عوامی ایکشن کمیٹی کی اصل حقیقت ہے۔

 
 

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.