جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن — نوجوانوں کی وہ آواز جو رکنے سے انکاری رہی

کشمیر کی سیاست میں جب بھی نوجوانوں کی بات ہوتی ہے تو ایک نام خاموشی سے مگر مضبوطی کے ساتھ سامنے آتا ہے: جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (JKN-SF)۔

یہ کوئی روایتی طلبہ تنظیم نہیں ہے جو صرف کیمپس کے مسائل تک محدود رہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو پڑھنے والے نوجوانوں کو کشمیر کے بڑے سیاسی سوال سے جوڑتی ہے۔ ایک کشمیری کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تنظیم دراصل اُس بے چینی کی آواز ہے جو ہر اُس نوجوان کے دل میں جنم لیتی ہے جو دو ریاستوں کے درمیان بٹے ہوئے وطن میں آنکھ کھولتا ہے۔


پس منظر — طلبہ، سیاست اور شناخت

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اُس دور میں سامنے آئی جب کشمیر کی نئی نسل یہ شدت سے محسوس کررہی تھی کہ ان کے مستقبل کے فیصلے نہ اُن کے تعلیمی اداروں میں ہو رہے ہیں، نہ اُن کے شہروں میں، بلکہ کہیں اور طے کیے جا رہے ہیں۔

چاہے پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر ہو یا بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر، نوجوانوں کے احساسات ایک جیسے ہیں:

  • ہمیں سنا نہیں جاتا

  • ہماری سیاسی رائے محدود ہے

  • ہمارے سوال خطرہ بنا دیے جاتے ہیں

اسی احساسِ محرومی سے JKN-SF جنم لیتی ہے۔


بنیادی نظریہ — سیاست بطور حق، جرم نہیں

JKN-SF کا مؤقف شروع سے واضح رہتا ہے:

  • کشمیری نوجوان سوچنے اور بولنے کا حق رکھتے ہیں

  • کشمیر محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے

  • مسئلہ کشمیر کا حل نوجوانوں کو نظرانداز کر کے ممکن نہیں

یہ تنظیم نہ بھارت کے بیانیے سے مطمئن ہے، نہ پاکستان کی سرکاری زبان اسے مکمل سچ لگتی ہے۔ وہ ایک ہی بات دہراتی ہے:

“جب تک کشمیری نوجوان آزادانہ بات نہیں کر سکتے، ہر حل ادھورا ہے۔”

یہ مؤقف دونوں اطراف کے طاقتور اداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوتا۔


دونوں اطراف ردِعمل — اختلاف کی قیمت

بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں JKN-SF سے وابستہ طلبہ کو اکثر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں، نگرانی اور کیمپس میں گرفتاریوں جیسے واقعات ان کے لیے معمول بن جاتے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی صورتحال مختلف نہیں رہتی۔ یہاں اگرچہ کھلا جبر کم دکھائی دیتا ہے، مگر طلبہ سیاست کی اپنی حدیں واضح رہتی ہیں۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کی اجازت نہیں ہوتی، اور کچھ مؤقف جن پر خاموشی بہتر سمجھی جاتی ہے۔

یوں کشمیری نوجوان دونوں اطراف یہ سیکھتے ہیں کہ ریاست وہی بات سننا چاہتی ہے جو اسے آسان لگے۔


طلبہ سیاست کی اہمیت — اصل طاقت کہاں ہے؟

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن یہ مانتی ہے کہ کشمیر کی اصل طاقت نہ بندوق میں ہے، نہ اقتدار میں، بلکہ شعور میں ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ:

  • مباحثوں کا اہتمام کرتی ہے

  • تحریروں کے ذریعے سوال اٹھاتی ہے

  • نوجوانوں کو تاریخ اور سیاست پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے

وہ نوجوانوں سے یہی کہتی ہے:

“اگر تم نے کشمیر کی کہانی خود نہ لکھی تو کوئی اور آ کر لکھ دے گا۔”

یہ بات کسی ریاست کے خلاف نہیں ہوتی، بلکہ صرف کشمیریوں کے حق میں ہوتی ہے۔


حدود اور چیلنجز — ایک مشکل مگر ضروری راستہ

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک طلبہ تنظیم ہونے کے ناطے JKN-SF کو سخت دباؤ، محدود وسائل اور مستقل خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ بڑے جلسے، کھلی سیاست یا وسیع عوامی اثر و رسوخ ممکن نہیں ہوتا۔

لیکن کشمیر جیسے خطے میں کامیابی صرف تعداد سے نہیں ناپی جاتی۔ کبھی کبھی صرف ایک سوال ہی کافی ہوتا ہے — اور JKN-SF یہی کام کرتی ہے۔


اختتام — ایک کشمیری نوجوان کی طرف سے

ایک کشمیری نوجوان کے لیے JKN-SF کی سیاست اس بات کی یاددہانی ہے کہ ہم صرف تماشائی نہیں ہیں۔ چاہے ہم پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں ہوں یا بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں، سوال کرنے کا حق ہمارا ہے۔

جموں کشمیر نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن شاید اقتدار تک نہ پہنچتی ہو، مگر یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ:

“کشمیر کا مستقبل کاغذوں میں نہیں، کلاس رومز اور نوجوان ذہنوں میں لکھا جاتا ہے۔”

جب تک یہ آواز زندہ ہے، کشمیر کا سوال بھی زندہ رہتا ہے۔

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.