جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی — ایک کشمیری سیاسی تجربہ

کشمیر کی سیاست میں کچھ جماعتیں اقتدار کے لیے مشہور ہوئیں، کچھ ریاستی سرپرستی میں آگے بڑھیں، اور کچھ ایسی بھی رہیں جنہوں نے طاقت کے مرکز سے باہر رہ کر بات کی۔

جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی اسی تیسری قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ جماعت نہ صرف سیاست کا حصہ تھی بلکہ اس سوچ کی نمائندہ بھی تھی جو کہتی ہے کہ کشمیر ایک قوم ہے اور قوموں کا فیصلہ قومیں خود کرتی ہیں۔

یہ بات سادہ تھی، مگر کشمیر جیسے خطے میں یہی بات سب سے مشکل ثابت ہوئی۔


پس منظر — ایک نئی سوچ کی ضرورت

1990 کی دہائی کے بعد کشمیر ایک بار پھر شدید بحران میں داخل ہو چکا تھا۔ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں تشدد، فوجی کارروائیاں اور انسانی حقوق سے متعلق شکایات بڑھ رہی تھیں۔

دوسری طرف پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی حد پہلے سے طے شدہ تھی۔ ایسے ماحول میں بہت سے کشمیری دانش ور اور سیاسی کارکن اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف پاکستان یا بھارت کے بیانیے کے ساتھ چلنے سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اسی سوچ سے جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی وجود میں آئی۔


بنیادی نظریہ — کشمیر بطور قوم

جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی کا بنیادی مؤقف شروع سے واضح رہا۔ جماعت کے نزدیک کشمیر ایک الگ قوم ہے، مسئلہ کشمیر زمین کا نہیں بلکہ انسانوں کا مسئلہ ہے، اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں جگہ کشمیریوں کو مکمل حقِ رائے حاصل نہیں۔

یہ جماعت نہ بھارت کے مؤقف کی حامی تھی اور نہ پاکستان کے سرکاری بیانیے کی نقل کرتی تھی۔ وہ صاف لفظوں میں کہتی تھی کہ کشمیر کو دو ریاستوں کے درمیان بانٹ کر مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا، حل تب نکلے گا جب کشمیری خود بولیں گے۔

یہ مؤقف دونوں طرف کے طاقتور حلقوں کو ناگوار گزرا۔


دونوں اطراف ردِعمل — خاموشی بھی، مخالفت بھی

بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں اس جماعت کو ریاستی دباؤ، نظراندازی اور محدود سیاسی گنجائش کا سامنا رہا۔ انہیں اکثر علیحدگی پسند کے لیبل کے ساتھ دیکھا گیا، بغیر یہ سمجھے کہ ان کا مؤقف دراصل عوامی رائے کی بات تھا۔

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی کو قانونی اور سیاسی بندشوں کا سامنا رہا۔ جلسوں پر قدغنیں لگیں، نظریے پر سوال اٹھائے گئے، اور بعض اوقات اسے غیر عملی یا غیر ضروری کہا گیا۔

اس کے باوجود جماعت نے اپنا مؤقف نرم نہیں کیا۔


عوامی سیاست — نعروں سے دور، سوالوں کے قریب

جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی کی سیاست کا انداز روایتی جماعتوں سے مختلف تھا۔ یہ جماعت تیز نعروں اور جذباتی تقریروں کے بجائے سوال اٹھانے اور سنجیدہ بات چیت پر یقین رکھتی تھی۔

وہ سوال کرتی تھی کہ کشمیریوں کے لیے فیصلہ ہمیشہ باہر کیوں ہوتا ہے، پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں مکمل سیاسی خودمختاری کیوں ممکن نہیں، اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں اختلافِ رائے کو ریاستی خطرہ کیوں سمجھا جاتا ہے۔

یہ سوال نہ مقبول تھے اور نہ آسان، مگر یہی سوال کشمیری سیاست کی اصل بنیاد بنتے ہیں۔


حدود اور حقیقت — ایک مشکل راستہ

یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی کبھی بڑی عوامی قوت نہیں بن سکی۔ اس کے پاس نہ ریاستی وسائل تھے، نہ میڈیا کی بھرپور حمایت، اور نہ ہی اسے بڑی انتخابی کامیابیاں حاصل ہو سکیں۔

لیکن کشمیر جیسے خطے میں ہر جماعت کا وزن صرف ووٹوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ کچھ جماعتیں صرف یہ یاد دلانے کے لیے ہوتی ہیں کہ مسئلہ اب بھی زندہ ہے۔


اختتام — ایک کشمیری یاددہانی

جموں کشمیر نیشن عوامی پارٹی شاید اقتدار تک نہ پہنچی ہو، لیکن اس نے ایک بات بار بار دہرائی کہ کشمیر کسی ایک ملک کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تقسیم شدہ قوم کا سوال ہے۔

آج جب کشمیر پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بٹا ہوا ہے، تو اس جماعت کا مؤقف ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی حل کے قریب جا رہے ہیں یا صرف انتظام بدل رہے ہیں۔

ایک کشمیری کے لیے اصل سوال آج بھی وہی ہے کہ فیصلہ کب اور کون کرے گا۔ جب اس سوال کا جواب کشمیری خود دیں گے، تبھی کوئی بھی جماعت، چاہے وہ نیشن عوامی پارٹی ہو یا کوئی اور، اپنا مقصد پورا کر سکے گی۔

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.