- حیدر علی
صحتِ عامہ کے بحران اور ہسپتالوں کی کمی — کشمیر کی ایک نظرانداز حقیقت
صحت وہ بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ لیکن کشمیر میں صحتِ عامہ کا شعبہ طویل عرصے سے بحران کا شکار ہے۔
یہ بحران کسی ایک بیماری یا موسم تک محدود نہیں، بلکہ نظام، وسائل اور ترجیحات کی کمی کا نتیجہ ہے۔ چاہے بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر ہو یا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر، عام کشمیری کے لیے علاج آج بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔
ہسپتال موجود ہیں، سہولت مکمل نہیں
کشمیر میں ہسپتال موجود ضرور ہیں، مگر اکثر مریضوں سے بھرے ہوتے ہیں، اسٹاف کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، اور جدید آلات سے محروم رہتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر دس مریضوں کے بجائے سو مریض دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس دباؤ کا براہِ راست اثر علاج کے معیار پر پڑتا ہے، اور مریض کو بروقت اور مکمل توجہ نہیں مل پاتی۔
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر — سہولیات مگر رسائی مشکل
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں کچھ بڑے ہسپتال اور میڈیکل ادارے موجود ہیں، لیکن مسئلہ ان تک رسائی کا ہے۔
کرفیو یا بندش کی صورت میں مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتے، انٹرنیٹ بند ہونے سے رپورٹس اور طبی مشورے رک جاتے ہیں، اور دیہی علاقوں سے شہروں تک سفر مشکل ہو جاتا ہے۔
ایمرجنسی حالات میں یہی تاخیر زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ بن جاتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر — بنیادی ڈھانچہ کمزور
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں صحت کا سب سے بڑا مسئلہ ہسپتالوں کی کمی ہے۔ تخصصی ہسپتال محدود ہیں، جدید مشینری نایاب ہے، اور ماہر ڈاکٹروں کی شدید قلت موجود ہے۔
سنگین بیماری کی صورت میں مریض کو اسلام آباد، راولپنڈی یا دیگر بڑے شہروں میں لے جانا پڑتا ہے۔ یہ سفر ہر خاندان کے لیے ممکن نہیں، اور یوں علاج ایک طبی کے ساتھ ساتھ معاشی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
وبائیں اور بحران کی حقیقت
وباؤں کے ادوار میں کشمیر کا صحت کا نظام مزید بے نقاب ہوا۔ بستر کم پڑ گئے، آکسیجن کی قلت سامنے آئی، اور طبی عملہ شدید تھکن کا شکار رہا۔
یہ حالات بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر، دونوں جگہ دیکھے گئے۔ وبا نے واضح کر دیا کہ صحتِ عامہ کی مجموعی تیاری ناکافی رہی ہے۔
ذہنی صحت — سب سے نظرانداز شعبہ
کشمیر میں ذہنی صحت وہ شعبہ ہے جس پر سب سے کم توجہ دی گئی۔ طویل تنازع، خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور مسلسل نقصانات لوگوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔
اس کے باوجود ماہرینِ نفسیات کی کمی ہے، ذہنی صحت کے مراکز نایاب ہیں، اور سماجی سطح پر خاموشی غالب ہے۔ ذہنی صحت کو آج بھی کمزوری سمجھا جاتا ہے، علاج کی ضرورت نہیں۔
ایک مریض کی مجبوری
ایک عام کشمیری یہ نہیں دیکھتا کہ ہسپتال کس ادارے کے تحت چل رہا ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ ڈاکٹر دستیاب ہو، دوا مل جائے، اور علاج عزت اور توجہ کے ساتھ ہو۔
یہ مطالبہ نہ سیاست ہے اور نہ الزام۔ یہ جینے کا بنیادی حق ہے۔
اختتام — صحت کو ترجیح بنانا ہوگی
کشمیر میں صحتِ عامہ کے بحران اور ہسپتالوں کی کمی کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر ہو یا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر، جب تک صحت پر سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں ہوگی، دیہی علاقوں کو ترجیح نہیں دی جائے گی، اور علاج کو حق سمجھ کر فراہم نہیں کیا جائے گا، یہ بحران برقرار رہے گا۔
کیونکہ سڑکیں، سیاست اور بیانات بعد میں آتے ہیں۔ سب سے پہلے زندگی بچانا ضروری ہے۔
اور کشمیر میں یہ ضرورت آج بھی پوری نہیں ہو سکی۔