عارف شاہد — پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کی وہ آواز جو خاموش کر دی گئی

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر (POK) میں اگر کوئی نام سب سے زیادہ درد، سوال اور بہادری کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو وہ عارف شاہد ہے۔ وہ نہ بھارت کے حمایتی تھے اور نہ پاکستان کے۔

وہ کسی سرحد کے وفادار نہیں تھے، وہ صرف کشمیر کے وفادار تھے۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگی بھی سوال بنی اور ان کی موت بھی۔


پس منظر — ایک سیاسی کارکن سے آزادی کے داعی تک

عارف شاہد کا تعلق ایک تعلیم یافتہ کشمیری گھرانے سے تھا۔ ابتدا میں انہیں امید تھی کہ پاکستان شاید کشمیریوں کی آواز بنے گا، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی مکمل سیاسی آزادی موجود نہیں۔

انہوں نے محسوس کیا کہ فیصلہ سازی اصل عوام کے ہاتھ میں نہیں اور کشمیر کے مستقبل پر بات ہمیشہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں ہوتی ہے۔ کشمیری ان فیصلوں کے درمیان کہیں گم ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ موڑ تھا جہاں ان کا نظریہ بدلا۔ انہوں نے کھل کر یہ کہنا شروع کیا کہ کشمیر نہ پاکستان کا ہونا چاہیے اور نہ بھارت کا، بلکہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور فیصلہ بھی وہی کریں گے۔


دونوں ریاستیں ان سے ناراض کیوں تھیں؟

عارف شاہد ایک سیدھی بات کہتے تھے کہ اگر پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں جگہیں کشمیریوں کو اپنی اصل بات کہنے کی اجازت نہیں دیتیں تو دونوں کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

بھارت کو مسئلہ تھا کہ عارف شاہد اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھل کر بات کرتے تھے، جبکہ پاکستان کو یہ ناگوار گزرتا تھا کہ وہ POK میں مکمل سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اسی وجہ سے وہ دونوں ریاستوں کے لیے ایک غیر آرام دہ آواز بن گئے۔


ایک خیال جس سے ریاستیں خوفزدہ رہیں

عارف شاہد اکثر کہا کرتے تھے کہ طاقت کی نہیں، رائے کی ضرورت ہے، اور کشمیر بندوق یا کنٹرول سے نہیں چل سکتا۔

یہ ایسے الفاظ تھے جو بڑی ریاستیں آسانی سے برداشت نہیں کرتیں، کیونکہ یہ ان کے بیانیے کو چیلنج کرتے تھے۔ وہ کسی کی لائن پر نہیں چلتے تھے، اور یہی بات انہیں خطرہ بناتی تھی۔


قتل — ایک ایسا واقعہ جس کا جواب آج تک نہیں ملا

14 مئی 2013 کو راولپنڈی میں ان کے گھر کے باہر انہیں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ یہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کی سیاست کے لیے ایک ہلا دینے والا لمحہ تھا۔

سب سے زیادہ خوفناک پہلو یہ ہے کہ نہ قاتل پکڑے گئے، نہ مقدمے میں کوئی واضح پیش رفت ہوئی، اور نہ ہی کسی ادارے نے ذمہ داری قبول کی۔

بھارت اس قتل کو پاکستان کی کمزوری کہتا ہے، پاکستان اسے دشمن کی سازش قرار دیتا ہے، لیکن کشمیری صرف ایک سوال پوچھتے ہیں کہ ہمارا رہنما کیوں مارا گیا اور انصاف کیوں نہیں ملا۔


اصل مسئلہ — وہ کسی کی صف میں نہیں تھے

عارف شاہد کی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ کسی ریاستی صف میں کھڑے نہیں تھے۔ وہ دونوں طرف ایک ہی سوال رکھتے تھے کہ آپ کشمیر پر بات تو کرتے ہیں، مگر کشمیریوں کو فیصلہ کرنے کیوں نہیں دیتے۔

وہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بااختیار سیاسی نظام چاہتے تھے، اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کا مطالبہ کرتے تھے۔

یعنی ان کی جدوجہد ایک ہی تھی۔ کشمیر کی آزادی، اور کشمیریوں کی آواز۔


آج POK میں ان کی یاد کیسے زندہ ہے؟

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں آج بھی بہت سے نوجوان عارف شاہد کو ایک علامت سمجھتے ہیں۔ سچ بولنے کی علامت، ڈر سے انکار کی علامت، اور اپنی شناخت کو خود متعین کرنے کی علامت۔

ان کی تصاویر آج بھی جلسوں، انسانی حقوق کی کانفرنسوں اور خود ارادیت کی تحریکوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ عارف شاہد کے قتل نے ہمیں خاموش نہیں کیا بلکہ بیدار کر دیا۔


اختتام — وہ سوال جو وہ چھوڑ گئے

عارف شاہد کے جانے کے برسوں بعد بھی کشمیر کے ہر حصے میں بسنے والے کشمیری ان کی ایک بات نہیں بھولے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیریوں کے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔

یہ جملہ آج بھی طاقتور حلقوں کے لیے چیلنج ہے اور کشمیریوں کے لیے امید۔ عارف شاہد تو جا چکے ہیں، مگر وہ سوال جو وہ چھوڑ گئے آج بھی فضا میں گونج رہا ہے۔

کشمیر، آخر کس کا ہے؟
اور کہیں دور سے ان کی آواز آتی ہے کہ کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے۔

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.