- حیدر علی
معاہدہ کراچی (1949) – کاغذ پر امن، زمین پر آگ
جب برصغیر تقسیم ہوا تو کشمیر اُس زخم کی طرح تھا جس پر کسی نے مرہم نہیں رکھا۔ 1947–48 کی جنگ کے بعد نہ بھارت جیتا، نہ پاکستان، اصل نقصان کشمیریوں کا ہوا۔
اسی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ بیچ میں آئی، قراردادیں بنیں، جنگ بندی کی بات ہوئی۔ اسی سلسلے میں 27 جولائی 1949 کو معاہدہ کراچی ہوا، جسے عموماً سیز فائر لائن والا معاہدہ کہا جاتا ہے۔
کاغذ پر یہ معاہدہ بڑا پُرامِن لگتا ہے۔ ایک لکیر کھینچ دی گئی، دونوں ملک اس بات پر راضی ہوئے کہ یہاں سے آگے تم، اور وہاں سے آگے ہم نہیں بڑھیں گے۔ فائر بندی رہے گی، اقوامِ متحدہ کے مبصرین (UNMOGIP) نگرانی کریں گے، اور آگے چل کر کشمیر کا حتمی فیصلہ ہونا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ بھارت نے اس معاہدے کی روح کی لاج رکھی، نہ پاکستان نے۔
معاہدہ کراچی اصل میں تھا کیا؟
یہ معاہدہ بھارت اور پاکستان کی فوجی قیادت نے اقوامِ متحدہ کے کمیشن (UNCIP) کی موجودگی میں کراچی میں طے کیا۔ اس میں بنیادی نکات یہ تھے:
1949 تک جس جگہ جس ملک کی فوج موجود تھی، وہی اس کا کنٹرول علاقہ مانا گیا
ایک لکیر کھینچی گئی جسے سیز فائر لائن کہا گیا، جو بعد میں لائن آف کنٹرول (LoC) بنی
اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو فائر بندی کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کا اختیار دیا گیا
یہ سب عارضی انتظام کے طور پر ہونا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ بعد میں عوامی رائے یا کسی منصفانہ سیاسی عمل کے ذریعے ہوگا۔
لیکن ہمارے خطّے میں عارضی چیزیں اکثر مستقل زخم بن جاتی ہیں۔
ایک اور خاموش معاہدہ — جس میں کشمیری شامل ہی نہیں تھے
1949 ہی میں ایک اور کراچی معاہدہ ہوا، اس بار پاکستان اور اُس وقت کی آزاد کشمیر حکومت کے درمیان۔ اس معاہدے کے ذریعے:
گلگت بلتستان (تب شمالی علاقہ جات) کا انتظام پاکستان کے پاس چلا گیا
دفاع، خارجہ امور اور مواصلات پاکستان نے اپنے ہاتھ میں رکھے
آزاد کشمیر حکومت کو صرف محدود اندرونی اختیارات ملے
یہ معاہدہ دہائیوں تک عوام سے چھپا رہا۔ جب منظرِ عام پر آیا تو یہ سوال شدت سے اٹھا کہ کشمیر سے متعلق فیصلوں میں کشمیریوں کو کہاں رکھا گیا؟
ایک طرف بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر، دوسری طرف پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر — اور دونوں طرف فیصلے بند کمروں میں، بغیر عوامی رائے کے۔
دونوں ملک، ایک جیسا رویہ — لائن پر گولہ باری، تقریروں میں امن
معاہدہ کراچی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر امن ہونا چاہیے تھا، مگر حقیقت مختلف ہے۔
بار بار گولہ باری
سرحدی جھڑپیں
فائر بندی کی خلاف ورزیاں
ہر بار الزام مخالف فریق پر
پاکستان کہتا ہے بھارت فائر بندی توڑ رہا ہے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت کہتا ہے پاکستان دراندازی کروا رہا ہے اور UNMOGIP اب غیر ضروری ہے۔
نتیجے میں لائن کے دونوں طرف رہنے والے لوگ خوف، تباہی اور غیر یقینی زندگی جیتے ہیں۔ گھر ٹوٹتے ہیں، بچے سہم جاتے ہیں، کھیت برباد ہو جاتے ہیں۔ معاہدہ کاغذ پر زندہ ہے، زمین پر بے جان۔
کشمیری کہاں کھڑے ہیں؟
سیز فائر لائن کی سب سے بڑی قیمت کشمیریوں نے ادا کی۔ ایک لکیر کھینچی گئی اور:
خاندان دو حصّوں میں بٹ گئے
ملاقات سرحد، اجازت نامے اور سیاست کے رحم و کرم پر چلی گئی
رائے شماری کا وعدہ فائلوں میں دب گیا
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اب بھی موجود ہیں، مگر نہ بھارت نے رائے شماری ہونے دی، نہ پاکستان اس سمت کوئی فیصلہ کن پیش رفت دکھا سکا۔
نہرو کے وعدے، پاکستان کے بیانات — سب اپنی جگہ، مگر کشمیری آج بھی یہی پوچھتا ہے: یہ وعدے گئے کہاں؟
مشہور باتیں، مشہور تقریریں — مسئلہ وہیں کا وہیں
دنیا نے کشمیر پر بہت کچھ کہا۔ کسی نے اسے عالمی ضمیر کا امتحان کہا، کسی نے برصغیر کا بم، کسی نے لائن آف کنٹرول کو دنیا کی خطرناک ترین لکیر قرار دیا۔
لیکن کشمیری کا سوال سادہ ہے: اتنے معاہدے، اتنی تقریریں، پھر بھی نہ مکمل امن، نہ مکمل انصاف — فائدہ کس کو ہوا؟
بھارت کو سفارتی مؤقف ملا، پاکستان کو سیاسی بیان — اور کشمیری؟ وہ اب بھی بٹے بیٹھے ہیں۔
معاہدہ کراچی — امن کی امید یا کنٹرول کا ذریعہ؟
غیر جذباتی نظر سے دیکھا جائے تو معاہدہ کراچی دو رُخ رکھتا ہے۔
ایک طرف جنگ روکنے اور خون بہنے سے بچانے کی کوشش
دوسری طرف کشمیر کو نقشوں، لائنوں اور فائلوں تک محدود کر دینا
اسی لیے کئی کشمیری دانشور کہتے ہیں کہ معاہدہ کراچی نے جنگ تو وقتی طور پر روکی، مگر مسئلہ حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیا۔
آج کے لیے سبق — سوال دونوں سے بنتے ہیں
اگر غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے تو سوال دونوں ریاستوں سے ہیں۔
بھارت سے سوال:
اقوامِ متحدہ سے کیے گئے وعدوں کا کیا ہوا؟
لائن پار بیٹھا انسان صرف سیکیورٹی رسک ہے؟
پاکستان سے سوال:
زیرِ تسلط علاقوں کو مکمل آئینی شناخت کب ملے گی؟
گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثر اپنے شہری کیوں ہوتے ہیں؟
کیونکہ امن بغیر انصاف کے عارضی ہوتا ہے۔
اختتام — وہ سوال جو اب تک قائم ہے
1949 سے آج تک حکومتیں بدلیں، معاہدے ہوئے، جنگیں ہوئیں، سیز فائر ٹوٹے اور بنے — مگر ایک چیز نہ بدلی: کشمیری آج بھی خود فیصلہ نہیں کر پائے۔
معاہدہ کراچی سمجھنے کا مطلب صرف ایک دستاویز پڑھنا نہیں، بلکہ یہ جاننا ہے کہ جب دو ریاستیں اپنے مفاد میں کسی خطے کو بانٹتی ہیں تو وہاں رہنے والے لوگ کیسے ٹوٹتے ہیں۔
جب تک میز پر بھارت اور پاکستان کے ساتھ کشمیری خود برابر کی حیثیت سے نہیں بیٹھتے، کوئی معاہدہ مکمل نہیں ہوگا۔
1949 کا معاہدہ کراچی یہی یاد دلاتا ہے کہ کاغذ پر لکیر کھینچنا آسان ہے، دلوں کی دراڑیں بھرنا مشکل۔
اور اس دراڑ کے بیچ آج بھی ایک آواز گونج رہی ہے:
“کشمیر صرف نقشے کا مسئلہ نہیں، یہ انسانوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔”