- حیدر علی
مقبول بٹ شہید — وہ آواز جو دونوں ریاستوں سے بالاتر تھی
آج جب ہم کشمیر کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے— مقبول بٹ شہید۔ وہ نہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے، نہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے۔ وہ صرف کشمیر کے تھے۔
ان کی زندگی کا ہر قدم، ہر فیصلہ اور ہر قربانی اسی ایک سوچ کے گرد گھومتی تھی کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے لوگ خود کریں، نہ دلی کرے اور نہ اسلام آباد۔
یہی ان کی پہچان تھی۔ یہی ان کی طاقت تھی۔ اور یہی اُن کا جرم بھی بن گئی۔
پیدائش، پس منظر اور حساس بچپن
مقبول بٹ 1938 میں تریہگام ضلع کپوارہ میں پیدا ہوئے، جو اُس وقت ایک عام کشمیری گاؤں تھا۔ گھر کے معاشی حالات مضبوط نہیں تھے۔ والد محنت کرتے تھے، اور والدہ کا جلد انتقال اُن کے اندر جلدی سمجھ اور سنجیدگی لے آیا۔
وہ بچپن سے ہی دیکھ رہے تھے کہ کشمیر کی زمین پر دو ریاستیں اپنا اختیار جمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد کشمیر ایک ایسا علاقہ بن گیا تھا جس پر پاکستان بھی حق جتا رہا تھا اور بھارت بھی، مگر کشمیری درمیان میں پس رہے تھے۔
مقبول بٹ نے اسی ماحول میں شعور حاصل کیا۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ جنگ دو ریاستوں کی نہیں بلکہ کشمیریوں کے مستقبل کی ہے۔
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کا سفر — مگر نظریہ مستقل
1950 کی دہائی میں جب بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں آزادی پسند نوجوانوں پر سختیاں بڑھیں تو مقبول بٹ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کی طرف آئے۔ یہاں انہوں نے تعلیم بھی حاصل کی، صحافت بھی کی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔
لیکن ایک بات انہوں نے کبھی نہیں بدلی۔ انہوں نے نہ کبھی کہا کہ کشمیر کو پاکستان میں ضم ہونا چاہیے، اور نہ کبھی یہ مانا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے۔
اسی سوچ نے انہیں عام کشمیری نوجوانوں میں مقبول بنا دیا، کیونکہ وہ نہ بھارت کی زبان بولتے تھے اور نہ پاکستان کی، وہ صرف کشمیریوں کی بات کرتے تھے۔
نیشنل لبریشن فرنٹ — جب جدوجہد سمت پکڑتی ہے
مقبول بٹ نے دیکھا کہ دونوں ریاستیں کشمیر کو اپنے سیاسی فائدوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ بیانات اور قراردادیں ہو رہی تھیں، مگر کشمیریوں کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔
اسی لیے انہوں نے نیشنل لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ دور تھا جب نہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں آزادی پسند سیاست آسان تھی اور نہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں۔
1966 میں وہ مسلح جدوجہد کے لیے دوبارہ وادی میں داخل ہوئے۔ گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور سزائے موت سنائی گئی۔ لیکن انہوں نے جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہو کر جدوجہد کو ایک نئی علامت دے دی۔
پاکستان میں مشکلات — ایک اور غیر آرام دہ حقیقت
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی انہیں مکمل قبولیت حاصل نہیں تھی۔ وہ پاکستان کے ریاستی مؤقف سے اختلاف رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر کشمیر کو واقعی آزاد ہونا ہے تو وہ کسی بھی ملک کا ماتحت نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بات پاکستان کے کچھ اداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی۔ یوں مقبول بٹ نہ بھارتی ریاست کے لیے قابلِ قبول تھے اور نہ پاکستانی ریاست کے لیے۔ وہ صرف کشمیری عوام کے لیے قابلِ قبول تھے۔
دوسری واپسی — اور ایک بار پھر گرفتاری
1976 میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ جدوجہد کو اندر سے زندہ رکھنے کے لیے انہیں دوبارہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر جانا ہوگا۔ وہ گئے، گرفتار ہوئے، اور پہلے سے موجود موت کی سزا دوبارہ ان کے سر پر آ گئی۔
جیل میں بھی انہوں نے ایک بات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ نہ کشمیر کو بھارت کا حصہ مانتے تھے اور نہ پاکستان کا۔ وہ دونوں ریاستوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے۔
تہاڑ جیل کا آخری دن — 11 فروری 1984
11 فروری 1984 کی صبح دہلی کی تہاڑ جیل میں مقبول بٹ شہید کو پھانسی دے دی گئی۔ وہ قرآن کی آیات پڑھتے ہوئے سکون سے گئے، بغیر خوف اور بغیر جھجک۔
سب سے بڑا زخم یہ تھا کہ ان کی میت آج تک جیل کے اندر دفن ہے۔ کشمیریوں کے لیے یہ صرف ایک موت نہیں تھی بلکہ حقِ خود ارادیت پر ایک اور ضرب تھی۔
مقبول بٹ کی یاد — ایک غیر جانبدار ہیرو
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی، بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی، اور بیرونِ ملک کشمیریوں کے دلوں میں بھی مقبول بٹ آج تک زندہ ہیں۔
کیونکہ انہوں نے کبھی کسی ریاست کا جھنڈا نہیں اٹھایا، کبھی کسی حکومت کا بیانیہ نہیں دہرایا، اور کبھی کشمیریوں کو تقسیم نہیں کیا۔ ان کا خواب ایک متحد، آزاد اور خود مختار کشمیر تھا۔
مقبول بٹ کی اصل وراثت
ان کی وراثت کوئی تنظیم نہیں بلکہ ایک سوچ ہے۔ یہ سوچ کہ کشمیر کا فیصلہ باہر والوں نے نہیں کرنا، کشمیری ایک قوم ہیں، اور آزادی صرف زمین کا نہیں بلکہ انصاف کا نام ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے۔
یہ جملہ آج بھی ہر کشمیری کی دھڑکن میں موجود ہے۔
اختتام — ایک آواز جو آج بھی زندہ ہے
مقبول بٹ شہید کے نظریے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کے طریقوں پر بحث بھی ہو سکتی ہے، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔
وہ نہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر کے تھے اور نہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر کے۔ وہ صرف کشمیر کے تھے۔
اسی لیے ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔
اور اسی لیے ان کی فکر آج بھی کشمیریوں کے دلوں میں دھڑکتی ہے۔