نوجوانوں میں بے روزگاری اور برین ڈرین — کشمیر کا کھویا ہوا مستقبل

کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان خواب دیکھتے ہیں، ہنر سیکھتے ہیں، اور مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔

لیکن کشمیر میں نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آج بے روزگاری اور برین ڈرین بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں میں موجود ہے، اگرچہ اس کی وجوہات کچھ حد تک مختلف ہیں۔


تعلیم ہے، روزگار نہیں

کشمیر میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، ڈگریاں لیتے ہیں، اور آگے بڑھنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ مگر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ نوکریاں کم ہیں، میرٹ پر مواقع محدود ہیں، اور نجی شعبہ کمزور ہے۔

صنعت اور سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجتاً تعلیم یافتہ نوجوان مہینوں، کبھی برسوں نوکری کے انتظار میں رہتے ہیں۔ یہ انتظار آہستہ آہستہ مایوسی میں بدل جاتا ہے۔


بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر — غیر یقینی مستقبل

بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں نوجوانوں کو سیاسی عدم استحکام اور مسلسل پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ کاروبار غیر یقینی کا شکار ہے، سیاحت متاثر رہتی ہے، اور نجی سرمایہ کاری محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

ان حالات میں نئی نوکریاں پیدا نہیں ہو پاتیں۔ بہت سے نوجوان انتظار کرتے کرتے ریاست سے باہر جانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، کیونکہ انہیں اپنا مستقبل یہاں بند نظر آتا ہے۔


پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر — مواقع کم، ہجرت زیادہ

پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں وسائل محدود ہیں۔ بڑی صنعتوں کی کمی ہے، نجی شعبہ کمزور ہے، اور سرکاری نوکریوں پر مقابلہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔

یہ حالات نوجوانوں کو اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ اگر کچھ کرنا ہے تو باہر جانا ہوگا۔ یوں نوجوان پاکستان کے بڑے شہروں، یا بیرونِ ملک مزدوری، تعلیم یا مستقل رہائش کے لیے نکل جاتے ہیں۔


برین ڈرین — خاموش نقصان

جب قابل، تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان اپنا خطہ چھوڑ دیتے ہیں تو اسے برین ڈرین کہا جاتا ہے۔ یہ نقصان فوری طور پر نظر نہیں آتا، مگر وقت کے ساتھ بہت گہرا ہو جاتا ہے۔

خیالات باہر چلے جاتے ہیں، مہارت واپس نہیں لوٹتی، اور معاشرہ اندر سے کمزور ہو جاتا ہے۔ کشمیر میں یہ عمل خاموشی سے مگر مسلسل جاری ہے۔


سماجی اثرات — مایوسی اور لاتعلقی

بے روزگاری کا اثر صرف معاشی نہیں ہوتا۔ یہ نوجوانوں میں مایوسی بڑھاتا ہے، رشتوں، شادی اور خاندانی فیصلوں کو متاثر کرتا ہے، اور سیاست و سماجی عمل سے دوری پیدا کرتا ہے۔

جب نوجوان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی محنت کی کوئی قدر نہیں، تو اس کا رشتہ معاشرے سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک معاشرہ اپنے سب سے قیمتی افراد کھونا شروع کر دیتا ہے۔


ایک کشمیری نوجوان کی سادہ خواہش

ایک کشمیری نوجوان بڑی باتیں نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ نوکری اسی کے علاقے میں ہو، میرٹ پر موقع ملے، ہجرت مجبوری نہ بنے، اور مستقبل غیر یقینی نہ ہو۔

یہ خواہش نہ سیاست ہے اور نہ مطالبہ۔ یہ زندگی کا حق ہے۔


اختتام — نوجوان واپس آئے بغیر مستقبل نہیں

نوجوانوں کی بے روزگاری اور برین ڈرین کشمیر کے لیے ایک خاموش مگر خطرناک بحران ہے۔ چاہے بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر ہو یا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر، جب تک معاشی استحکام نہیں آئے گا، مقامی مواقع پیدا نہیں ہوں گے، اور نوجوانوں کو ترقی کے مرکز میں نہیں رکھا جائے گا، یہ اخراج جاری رہے گا۔

کیونکہ جب نوجوان چلے جائیں تو سرزمین تو رہ جاتی ہے، مگر مستقبل نہیں۔
اور کشمیر اب مزید اپنا مستقبل کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.