نیشنل کانفرنس — ایک کشمیری کی نظر سے

کشمیر کی سیاست میں نیشنل کانفرنس کا نام ایسا ہے جس سے کوئی بھی کشمیری ناواقف نہیں۔ یہ جماعت صرف ایک سیاسی پارٹی نہیں رہی، بلکہ ایک وقت میں یہ کشمیری شناخت، امید اور مستقبل کے خواب کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

مگر وقت کے ساتھ اس جماعت کا راستہ کئی موڑ لیتا گیا، اور آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو یہ سوال فطری لگتا ہے کہ کیا نیشنل کانفرنس واقعی کشمیریوں کی آواز بن سکی۔

یہ سوال میں ایک کشمیری کے طور پر پوچھ رہا ہوں، نہ پاکستان کے مؤقف سے، نہ بھارت کے، بلکہ وادی کے ایک عام انسان کی نظر سے۔


آغاز — مہاراجہ کے دور میں ایک آواز

نیشنل کانفرنس کی بنیاد اُس دور میں پڑی جب کشمیر مہاراجہ کے زیرِ تسلط تھا۔ شیخ محمد عبداللہ اور ان کے ساتھیوں نے محسوس کیا کہ کشمیر کے عوام، چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر دباؤ میں ہیں۔

اسی سوچ کے تحت مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں بدلا گیا، تاکہ کشمیر کی تمام قومیتوں کو ایک مشترک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جا سکے۔ اُس وقت یہ ایک جرات مندانہ اور غیر معمولی فیصلہ تھا۔

کشمیریوں کو لگا کہ شاید اب کوئی ایسی قیادت سامنے آ گئی ہے جو انہیں مہاراجہ کے ظلم سے نکال کر عزت اور برابری کی راہ پر لے جائے گی۔


1947 کے بعد — امید بھی، الجھن بھی

1947 آیا اور کشمیر دو حصّوں میں بٹ گیا، پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر۔ اس تقسیم کے بعد نیشنل کانفرنس کا سیاسی وزن زیادہ تر بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں مرکوز ہو گیا۔

شیخ عبداللہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کو اس وعدے کے ساتھ قبول کیا کہ کشمیر کو خصوصی حیثیت، خودمختاری اور عوامی حقوق حاصل رہیں گے۔ عام کشمیریوں نے یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر قبول کیا، اس امید کے ساتھ کہ یہ سب عارضی ہے اور ان کا حق محفوظ رہے گا۔


وعدے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ

وقت کے ساتھ وہ عارضی انتظام مستقل بنتا گیا، اور خودمختاری آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی۔ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں نیشنل کانفرنس اقتدار میں تو آئی، مگر اسی کے ساتھ دہلی کی ریاستی پالیسیوں کا دباؤ بھی بڑھتا چلا گیا۔

بہت سے کشمیریوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ جماعت اب مزاحمت یا خودمختاری کی علامت نہیں رہی، بلکہ نظام کے اندر رہ کر چلنے والی ایک سیاسی قوت بن چکی ہے۔

دوسری طرف پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں نیشنل کانفرنس کبھی وہ مقام حاصل نہ کر سکی جو مسلم کانفرنس کو ملا۔ یوں ایک ہی جماعت، دو حصّوں میں بٹے کشمیر میں، دو مختلف پہچانوں کے ساتھ جانی گئی۔


ایک کشمیری کی الجھن

ایک عام کشمیری کے لیے مسئلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے کہ فیصلہ ہمارا کیوں نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں نیشنل کانفرنس اکثر دہلی کے فیصلوں کے ساتھ چلتی رہی۔

اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں سیاست پہلے ہی ایک محدود دائرے میں قید رہی۔ دونوں طرف کشمیر کی اصل بات، یعنی کشمیریوں کا حقِ فیصلہ، پیچھے چلا گیا۔

ہم نے ووٹ بھی دیا، قربانیاں بھی دیں، مگر پھر بھی ہمیں بتایا گیا کہ اصل فیصلے کہیں اور ہوں گے۔


نیشنل کانفرنس کا آج کا چیلنج

آج نیشنل کانفرنس ایک مشکل موڑ پر کھڑی ہے۔ نئی نسل کھل کر سوال کر رہی ہے کہ کیا یہ جماعت واقعی کشمیری خودمختاری کی بات کر سکتی ہے۔

کیا یہ دہلی یا اسلام آباد کے دباؤ سے ہٹ کر سوچنے اور بولنے کی ہمت رکھتی ہے، یا یہ صرف اقتدار کی سیاست تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ سوال سخت ضرور ہیں، مگر ضروری بھی ہیں، کیونکہ کشمیر کی سیاست اب صرف نعروں سے نہیں چلے گی۔


اختتام — نیشنل کانفرنس اور کشمیری امید

نیشنل کانفرنس کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس نے کشمیریوں کو سیاسی شعور دیا، بولنے کا حوصلہ دیا، اور مہاراجہ کے دور میں ایک راستہ دکھایا۔

مگر آج ایک کشمیری کی حیثیت سے یہ کہنا ضروری ہے کہ کوئی بھی جماعت، چاہے وہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں ہو یا پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں، تب تک قابلِ اعتماد نہیں ہو سکتی جب تک وہ واضح طور پر یہ نہ کہے کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری خود طے کریں گے۔

اگر نیشنل کانفرنس اس سچ کو دوبارہ اپنا لے، تو شاید وہ ایک بار پھر کشمیری دلوں میں جگہ بنا سکے۔
ورنہ وہ بھی تاریخ کی فائل میں شامل ہو جائے گی، جہاں بہت سی جماعتیں پہلے ہی موجود ہی

Portions of this website’s content were translated using AI technology such as ChatGPT.