- حیدر علی
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں قوم پرست جماعتوں پر غیر اعلانیہ پابندی — ایک خاموش حقیقت
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں سیاست بظاہر آزاد نظر آتی ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں، اسمبلی موجود ہے، اور سیاسی جماعتیں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔
یہ رخ ہے قوم پرست جماعتوں پر غیر اعلانیہ پابندی، جسے اکثر “شیڈو بین” کہا جاتا ہے۔
یہ پابندی کسی ایک اعلان، قانون یا نوٹیفکیشن میں نظر نہیں آتی، لیکن اس کے اثرات ہر اس آواز پر محسوس کیے جا سکتے ہیں جو پاکستان کے سرکاری بیانیے سے ہٹ کر کشمیر کی بات کرتی ہے۔
شیڈو بین کیا ہوتا ہے؟
شیڈو بین کا مطلب یہ نہیں کہ کسی جماعت پر باقاعدہ پابندی لگا دی گئی ہو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت موجود تو ہوتی ہے، مگر نظر نہیں آتی؛ بول سکتی ہے، مگر سنائی نہیں دیتی؛ اور سیاسی عمل میں شامل ہو سکتی ہے، مگر جیت نہیں سکتی۔
یہ سب کچھ بغیر کسی سرکاری اعلان کے ہوتا ہے۔
قوم پرست جماعتیں اور ان کا مؤقف
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں قوم پرست جماعتوں کا بنیادی مؤقف ایک جیسا رہا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کشمیر ایک الگ قوم ہے، مسئلہ کشمیر کا حل نہ پاکستان میں ضم ہونے میں ہے نہ بھارت میں، اور کشمیریوں کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق ملنا چاہیے۔
یہ جماعتیں پاکستان سے دشمنی نہیں کرتیں، لیکن مکمل تابع ہونے پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ اور یہی سوال غیر آرام دہ سمجھا جاتا ہے۔
پابندی کی شکلیں — بغیر پابندی کے کنٹرول
قوم پرست جماعتوں کے خلاف کوئی کھلا کریک ڈاؤن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، مگر کنٹرول نہایت منظم ہوتا ہے۔ میڈیا میں جگہ نہ ملنا، جلسوں کی اجازت میں رکاوٹ، نعروں اور جھنڈوں کو “حساس” قرار دینا، انتخابی عمل میں غیر مساوی ماحول، اور کارکنان پر دباؤ و نگرانی—یہ سب مل کر سیاست کی گنجائش کو آہستہ آہستہ سکیڑ دیتے ہیں۔
انتخابات اور قوم پرست سیاست
انتخابات پاکستانی زیرِ تسلط کشمیر کی سیاست کا مرکزی حصہ ہیں۔ لیکن قوم پرست جماعتوں کے لیے انتخابی عمل اکثر ایک مشکل سفر ثابت ہوتا ہے۔ مقابلہ اُن جماعتوں سے ہوتا ہے جنہیں ریاستی بیانیے کی قربت حاصل ہوتی ہے، وسائل دستیاب ہوتے ہیں، اور میڈیا کوریج ملتی ہے۔
ایسے ماحول میں قوم پرست جماعتیں اکثر شرکت تو کرتی ہیں، مگر نتیجہ پہلے سے طے شدہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ قوم پرست سیاست کو منظم طریقے سے کنارے لگایا جا رہا ہے۔
بھارت اور پاکستان — ایک غیر آرام دہ مماثلت
یہ بات کہنا ضروری ہے کہ یہ صورتحال صرف پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر تک محدود نہیں۔ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی قوم پرست یا آزادی پسند سیاست اکثر سخت نگرانی، پابندیوں اور سخت ردِعمل کا سامنا کرتی ہے۔
طریقہ مختلف ہے، سطح مختلف ہے، مگر نتیجہ ایک جیسا—کشمیری سیاسی آواز کو محدود رکھنا۔ یہ مشابہت ایک کشمیری کے لیے سب سے زیادہ مایوس کن حقیقت ہے۔
ایک کشمیری سوال
ایک عام کشمیری یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اگر قوم پرست جماعتیں واقعی غیر متعلقہ ہیں تو انہیں آزادانہ سیاست سے کیوں روکا جاتا ہے؟ اور اگر ان کی بات میں وزن نہیں تو انہیں بولنے دیا جائے، فیصلہ عوام خود کر لیں۔
غیر اعلانیہ پابندیاں نہ مسئلے کو ختم کرتی ہیں اور نہ سیاست کو محفوظ بناتی ہیں، وہ صرف اعتماد کو کم کرتی ہیں۔
اختتام — سوال پابندی کا نہیں، اعتماد کا ہے
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں قوم پرست جماعتوں پر شیڈو بین ایک کھلی حقیقت ہے، مگر غیر کہی ہوئی۔ یہ پابندی کسی قانون کی خلاف ورزی نہ سہی، لیکن سیاسی اعتماد کو ضرور نقصان پہنچاتی ہے۔
جب تک ہر طرح کی کشمیری سیاست کو برابر کی سطح پر بولنے، سننے اور مقابلے کا حق نہیں ملتا، جمہوریت ادھوری رہے گی۔
کیونکہ سیاست کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں۔ اور کشمیر میں دبی ہوئی آوازیں ہمیشہ واپس آتی ہیں۔