- حیدر علی
کشمیری ثقافت اور زبان کا مسلسل زوال — ایک خاموش بحران
کشمیر کی پہچان صرف اس کی وادیوں، پہاڑوں اور جھیلوں سے نہیں بنتی۔ اصل پہچان اس کی زبان، رسم و رواج، لوک کہانیاں، موسیقی، لباس اور رہن سہن ہیں۔ مگر آج ایک کشمیری کے لیے سب سے تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پہچان آہستہ آہستہ ہم سے چھن نہیں رہی؟
یہ زوال کسی ایک دن میں نہیں آیا۔ یہ برسوں کی غفلت، سیاسی دباؤ، بدلتی ترجیحات اور شناخت سے دوری کا نتیجہ ہے۔ یہ صورتِ حال پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں میں مختلف انداز میں، مگر ایک جیسے انجام کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
کشمیری زبان — گھروں تک محدود ہوتی شناخت
کشمیری زبان کبھی روزمرہ زندگی، شاعری اور علم کا ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ:
اسکولوں میں کشمیری زبان کو سنجیدگی حاصل نہیں
دفتری اور تعلیمی زبانیں باہر سے مسلط ہیں
نوجوان نسل کشمیری بولنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں کشمیری زبان اکثر رسمی طور پر تسلیم تو کی جاتی ہے، مگر عملی زندگی میں اسے محدود رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں کشمیری زبان کو یا تو نظرانداز کیا گیا یا اسے “غیر ضروری” سمجھا گیا۔
نتیجہ یہ ہے کہ کشمیری زبان گھروں اور بزرگوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، اور نئی نسل اس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ثقافت — روایت سے نمائش تک
کشمیری ثقافت بھی آہستہ آہستہ اپنی روح کھو رہی ہے۔ رسم و رواج جو کبھی زندگی کا قدرتی حصہ تھے، اب اکثر:
تقریبات تک محدود ہو گئے ہیں
سیاحتی نمائش بن گئے ہیں
یا صرف تصویروں اور ویڈیوز میں نظر آتے ہیں
لباس، موسیقی، لوک رقص اور تہوار ایک وقت میں کشمیری معاشرے کا مرکز تھے۔ آج وہ یا تو بازاری روپ اختیار کر چکے ہیں یا نئی نسل کے لیے غیر اہم بن گئے ہیں۔ یہ تبدیلی جزوی طور پر قدرتی ہے، مگر اس میں ایک حد سے زیادہ زبردستی بھی شامل رہی ہے۔
سیاسی تقسیم اور ثقافتی ٹوٹ پھوٹ
کشمیر کی سیاسی تقسیم نے ثقافتی زوال کو تیز کیا ہے۔ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں ثقافتی شناخت اکثر ریاستی شناخت کے نیچے دب جاتی ہے، جبکہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں ثقافت کو عموماً سیکیورٹی اور کنٹرول کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔
دونوں جگہ کشمیری ثقافت کو آزادانہ طور پر سانس لینے کا موقع کم ملا۔ جب شناخت سیاست کے تابع ہو جائے تو ثقافت کمزور ہونے لگتی ہے۔
نوجوان نسل — عالمی دنیا، مقامی جڑیں کمزور
آج کا کشمیری نوجوان ایک عالمی دنیا کا حصہ ہے۔ سوشل میڈیا، بیرونی زبانیں، نئی موسیقی اور رجحانات اس کی ترجیح بن چکے ہیں۔ یہ رجحان خود میں غلط نہیں، مسئلہ تب بنتا ہے جب اپنی زبان اور ثقافت شرمندگی یا پسماندگی کی علامت بن جائے۔
بہت سے نوجوان کشمیری بولنے سے کتراتے ہیں، اپنی روایات کو پرانا سمجھتے ہیں، اور شناخت کو بوجھ کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ زوال بندوق یا قانون سے نہیں، بلکہ خاموشی سے ہوتا ہے۔
ذمہ داری کس کی ہے؟
یہ بحران نہ کسی ایک حکومت کا پیدا کیا ہوا ہے، نہ ہی صرف عوام کی غلطی۔ ذمہ داری مشترکہ ہے:
ریاستوں کی، جو ثقافتی تنوع کو تحفظ دینے میں ناکام رہیں
تعلیمی نظام کی، جو مقامی زبان کو جگہ نہ دے سکا
معاشرے کی، جو نئی نسل کو فخر سکھانے میں کمزور رہا
ایک کشمیری کے لیے یہ صرف ثقافتی سوال نہیں، بلکہ بقا کا سوال ہے۔
اختتام — شناخت اگر گئی تو سب کچھ جائے گا
کشمیری ثقافت اور زبان کا زوال کوئی فوری حادثہ نہیں، بلکہ ایک جاری عمل ہے۔ اگر آج بھی:
کشمیری زبان کو تعلیم میں جگہ نہ ملی
ثقافت کو زندہ روایت کے طور پر نہ بچایا گیا
اور شناخت کو سیاسی بحث سے آزاد نہ کیا گیا
تو آنے والی نسلیں کشمیر تو دیکھیں گی، مگر کشمیری نہیں ہوں گی۔
کیونکہ زمین سرحدوں سے بچ سکتی ہے، مگر شناخت خاموشی سے مر جاتی ہے۔ اور کشمیر میں یہ خاموشی اب خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔