- حیدر علی
کشمیر کی سیاسی صورتِ حال — ایک کشمیری جائزہ
کشمیر کی سیاست کو باہر سے دیکھنے والے اکثر اسے نعروں، جلسوں اور بیانات تک محدود سمجھتے ہیں، مگر ایک کشمیری کے لیے سیاست روزمرہ زندگی، شناخت، اختیار اور مستقبل کا سوال ہے۔
آج کشمیر پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں بٹا ہوا ہے۔ دونوں حصّوں میں سیاست کے طریقے مختلف ضرور ہیں، مگر بنیادی الجھن ایک ہی ہے کہ فیصلہ کون کرتا ہے۔
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر — سیاست اور سیکیورٹی
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں سیاست اکثر سیکیورٹی کے دائرے میں قید ہو جاتی ہے۔ انتخابات ہوتے ہیں، حکومتیں بنتی ہیں، مگر اختیارات کی اصل بنیاد عموماً مقامی قیادت کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔
آئینی تبدیلیاں دور بیٹھ کر طے ہوتی ہیں، سیاسی سرگرمیاں نگرانی میں رہتی ہیں، اور اختلاف کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی جماعتوں کے لیے عوام کا اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عام کشمیری یہ احساس رکھتے ہیں کہ ان کی سیاست کو کبھی مکمل خودمختاری ملی ہی نہیں۔
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر — سیاست مگر حدود کے ساتھ
پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں سیاست کا ڈھانچہ مختلف ضرور ہے، لیکن یہاں بھی مکمل اختیار موجود نہیں۔ انتخابات ہوتے ہیں، اسمبلیاں بنتی ہیں، مگر بڑے فیصلے اکثر مقامی سیاست سے باہر طے ہوتے ہیں۔
آئینی حدود مقرر ہیں، کچھ موضوعات پر کھل کر بات ممکن نہیں، اور ریاستی پالیسی سے ہٹنا آسان نہیں۔ یوں سیاست تو موجود ہے، مگر وہ مکمل بااختیار نہیں۔
ایک کشمیری کے لیے یہ کم اہم ہے کہ فیصلہ دہلی میں ہو یا اسلام آباد میں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ سری نگر یا مظفرآباد میں کیوں نہیں ہوتا۔
سیاسی جماعتیں — نمائندگی یا مفاہمت؟
دونوں جانب سیاسی جماعتوں کو ایک ہی چیلنج درپیش ہے کہ کیا وہ واقعی عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں، یا صرف نظام کے ساتھ مفاہمت کر کے آگے بڑھ رہی ہیں۔
بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں کئی جماعتیں ریاستی فیصلوں کے دباؤ میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں جماعتیں ایک مخصوص ریاستی فریم ورک کے اندر محدود ہو جاتی ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے دل میں سیاست دانوں پر اعتماد مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
کشمیری نوجوان اور سیاست
آج کا کشمیری نوجوان روایتی سیاست سے خاصا مایوس نظر آتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے کہ ووٹ کس چیز کے لیے، اختیار کہاں ہے، اور نمائندگی حقیقت میں بھی ہے یا صرف کاغذ پر۔
اسی لیے بہت سے نوجوان پارٹی سیاست سے ہٹ کر احتجاج، سماجی تحریکوں اور گراس روٹ سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ یہ سیاست سے بیزاری نہیں بلکہ سیاست کو نئے معنی دینے کی کوشش ہے۔
بین الاقوامی پہلو — بات ہوتی ہے، عمل نہیں
کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ بیانات دیے جاتے ہیں اور تشویش ظاہر کی جاتی ہے، مگر عملی سطح پر کشمیری عوام بہت کم فرق محسوس کرتے ہیں۔
عالمی سیاست میں کشمیر اکثر سفارتی مفادات کے درمیان دب جاتا ہے، اور کشمیری خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
ایک کشمیری زاویہ — مسئلہ سیاست نہیں، اختیار ہے
ایک کشمیری جب اپنی سیاسی صورتِ حال پر نظر ڈالتا ہے تو وہ کسی ایک ملک کو مکمل طور پر الزام نہیں دیتا۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ ہماری سیاست ہمارے نام پر تو ہے، مگر ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
جب تک پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر اور بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر دونوں جگہ حقیقی سیاسی اختیار مقامی ہاتھوں میں نہیں آئے گا، یہ بحران برقرار رہے گا۔
اختتام — کشمیر کی سیاست کا مرکزی سوال
کشمیر میں سیاست کا اصل سوال آج بھی وہی ہے جو دہائیوں پہلے تھا کہ فیصلہ کون کرے گا۔
جب اس سوال کا جواب عام کشمیری خود دے سکے گا، نہ دہلی اور نہ اسلام آباد، تبھی کشمیر کی سیاست بحران سے نکل کر اعتماد کی طرف بڑھے گی۔
ورنہ سیاست چلتی رہے گی، مگر کشمیری ہمیشہ خود کو باہر کھڑا محسوس کریں گے۔
اور یہی کشمیر کی سیاسی حقیقت ہے۔