- حیدر علی
یومِ بنیادِ کشمیر (16 مارچ 1846) — ایک تاریخی دن، ایک متنازع آغاز
16 مارچ 1846 کشمیر کی تاریخ کا وہ دن ہے جسے آج یومِ بنیادِ کشمیر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب معاہدۂ امرتسر کے تحت ریاست جموں و کشمیر باقاعدہ طور پر وجود میں آئی۔
لیکن ایک کشمیری کی نظر سے یہ دن صرف بنیاد کا دن نہیں، بلکہ سوالوں، زخموں اور ایک طویل جدوجہد کا آغاز بھی ہے۔
معاہدۂ امرتسر — کشمیر کی فروخت
16 مارچ 1846 کو برطانوی حکومت اور ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کے درمیان معاہدۂ امرتسر ہوا۔ اس معاہدے کے تحت پورا کشمیر ایک خطہ کی حیثیت سے ڈوگرہ خاندان کے حوالے کیا گیا۔
اس کے بدلے رقم طے کی گئی، اور کشمیری عوام کی رائے اس فیصلے میں شامل نہیں تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کشمیریوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ ان کی زمین اور ان کی تقدیر کے فیصلے ان کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
ریاست کا قیام — مگر عوام کہاں تھے؟
ریاست جموں و کشمیر قائم ہو گئی، حدود بھی مقرر ہو گئیں، اور دارالحکومت بھی طے ہو گیا۔ لیکن جو چیز غائب تھی وہ عوام کی مرضی تھی۔
کشمیری اس معاہدے کے فریق نہیں تھے، ان سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، اور ان کی زندگی ایک تحریری معاہدے کے تحت بدل دی گئی۔ اسی لیے کچھ کشمیری تاریخ دان اس دن کو بنیاد کے بجائے ابتداۓ بے اختیاری بھی کہتے ہیں۔
ڈوگرہ دور اور اس کے اثرات
1846 کے بعد ڈوگرہ حکمرانی نے کشمیر کے سماج، معیشت اور سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ سیاسی طاقت محدود رہی، معاشی بوجھ عام عوام پر پڑا، اور اظہار پر سخت پابندیاں رہیں۔
یہ وہ دور تھا جس نے کشمیری معاشرے میں شعور اور مزاحمت کو جنم دیا۔ اسی شعور نے آگے چل کر سیاسی تحریکوں، سوالات اور حق کی آوازوں کی بنیاد رکھی۔
آج کا کشمیر — تقسیم مگر تسلسل
آج کشمیر بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں تقسیم ہے، لیکن 1846 کا اثر آج بھی واضح محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس دن سے جو فیصلہ کشمیریوں کے بغیر ہوا، اس کی روایت وقت کے ساتھ بار بار دہرائی گئی۔ شکلیں بدلتی رہیں، حکمران بدلتے رہے، مگر کشمیریوں سے پوچھے بغیر فیصلہ کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
یومِ بنیاد یا یومِ سبق؟
کچھ لوگ 16 مارچ کو ریاست کی بنیاد کا دن کہتے ہیں، لیکن ایک کشمیری کے لیے یہ دن زیادہ تر سبق کا دن ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب عوام کو نظرانداز کیا جائے، جب سرزمین کو تحریری معاہدوں میں بانٹا جائے، تو تنازعات نسلوں تک چلتے ہیں۔ یہ تاریخ نفرت نہیں سکھاتی، بلکہ یہ بتاتی ہے کہ غیر شفاف فیصلے کبھی پائیدار نہیں ہوتے۔
ایک کشمیری کا احساس
ایک عام کشمیری 16 مارچ کو جشن سے زیادہ سوچ کا دن سمجھتا ہے۔ وہ یہ سوال کرتا ہے کہ اگر 1846 میں ہم سے پوچھا جاتا تو کیا ہماری تاریخ مختلف نہ ہوتی؟
یہ سوال آج بھی بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں زندہ ہے اور پاکستان کے زیرِ تسلط کشمیر میں بھی۔
اختتام — بنیاد تب مضبوط ہوتی ہے
16 مارچ 1846 کشمیر کے وجود کا نقطۂ آغاز ضرور تھا، لیکن ایک مضبوط بنیاد نہیں بن سکا۔ کیونکہ بنیاد صرف زمین سے نہیں بنتی، وہ عوام کی مرضی سے بنتی ہے۔
جب تک کشمیر کے فیصلے کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہوں گے، کوئی بھی بنیاد مکمل نہیں ہو سکتی۔ یومِ بنیادِ کشمیر ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کو ماننا ضروری ہے، مگر اس سے سیکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔